نئی دہلی، یکم مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی)دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو شمال مشرقی دہلی میں سال 2020 میں ہونے والے فسادات کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کئی بڑے لیڈروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے ا ن کا موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔ان لیڈروں میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر، کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی، کانگریس ایم پی راہل گاندھی، کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا اور دیگر شامل ہیں۔ عدالت نے ان تمام کے خلاف ہوئی اشتعال انگیز تقریر سے متعلق ایف آئی آر میں انہیں فریق بنانے اور ان کے خلاف ہونے والی کارروائی کے تعلق سے ان کا موقف واضح کرنے کیلئے کہاہے۔جسٹس سدھارتھ مردول اور انوپ کمار میندیریتا کی بنچ نے 2020 میں فسادات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے ان لوگوں کو نوٹس بھیجے ہیں جن کے خلاف درخواست میں کارروائی کی مانگ کی گئی تھی۔ انہیں نوٹس بھیجا ہے۔ اس میں سے ایک درخواست شیخ مجتبیٰ فاروق نے دائر کی ہے جس میں انہوں نے مانگ کی ہے کہ بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر،کپل مشرا، پرویش ورما اور ابھے ورما پر اشتعال انگیزی کیلئے ایف آئی آر درج کی جائے۔